
بڑے بینکوں کی مالی صحت سے متعلق خدشات کے باعث بدھ کے روز اتار چڑھاؤ بڑھا اور سرمایہ کاروں میں رسک سے گریز کا رجحان مضبوط ہوا۔ اس کے بعد عالمی مارکیٹوں نے سکون کا سانس لیا۔ مارکیٹوں کو مستحکم کرنے کی اس کوشش کو پالیسی سازوں کی جانب سے ان خدشات پر قابو پانے کی کوششوں سے مزید تقویت مل سکتی ہے کہ 2008 کا مالی بحران دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔
اس کے نتیجے میں امریکی ڈالر کی حالیہ مضبوطی کم ہوئی، جبکہ ECB کے سخت گیر مؤقف سے متعلق گفتگو نے EURUSD میں تیزی کو پھر سے بڑھاوا دیا۔ یہ اس وقت ہوا جب یورو کے اس جوڑے میں چھ ماہ کی سب سے بڑی یومیہ گراوٹ دیکھی گئی تھی۔ اس کے باوجود، نیوزی لینڈ کی مایوس کن GDP کے باعث NZDUSD دباؤ میں ہے، جبکہ سونے اور خام تیل کی قیمتیں بھی دباؤ کا شکار ہیں۔
مزید یہ کہ سست رفتار ییلڈز کے دباؤ کے باعث USDJPY مسلسل دوسرے روز بھی کمزور ہے، جبکہ USDCAD تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے معمولی خسارے میں ہے۔
دوسری جانب، چار دن کا مسلسل اضافہ رکنے کے بعد BTCUSD اور ETHUSD میں خریداری کا رجحان نظر آ رہا ہے۔ اس دوران یورپ کے Credit Suisse اور امریکا کے Silicon Valley Bank اور Signature Bank سے متعلق خدشات بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
اہم اثاثوں کی تازہ ترین نقل و حرکت درج ذیل ہے:



اگرچہ سوئس نیشنل بینک (SNB)، کریڈٹ سوئس (CS) کی مدد کے لیے تیار ہے اور امریکی حکومت لیکویڈیٹی کی کمی پر قابو پانے کے لیے مارکیٹ میں $2.0 ڈالنے کو تیار ہے، لیکن ٹریڈرز مالیاتی صورتحال کے بارے میں پُرامید نہیں ہیں، کیونکہ بینکوں کی ناکامیاں معاشی بحران کی ابتدائی علامات ہیں۔
گزشتہ چند ماہ میں متعدد مرکزی بینکوں کی جانب سے بینچ مارک شرحوں میں اضافے کے بعد، CS بھی SVB اور Signature Bank کے ساتھ لیکویڈیٹی سے متعلق خدشات کی زد میں آ گیا۔ تاہم، چین میں معیشت کی زیادہ مضبوط بحالی کی امیدیں اور Fed کی جانب سے شرحوں میں مزید اضافے کی باتیں امریکی ڈالر اور سونے کو تیزی کے حامیوں کی نظر میں رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب، خطے میں معاشی خدشات بڑھنے کے باوجود EURUSD محتاط انداز میں ECB کی جارحانہ پالیسی کی توقعات کا خیرمقدم کر رہا ہے۔ مزید یہ کہ کمزور ییلڈز USDJPY پر دباؤ ڈال رہی ہیں، جبکہ نیوزی لینڈ کے تشویش ناک اعداد و شمار NZDUSD پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اسی دوران، تیل کی قیمتیں طلب سے متعلق خدشات کو نظر انداز نہیں کر پا رہیں، جبکہ محفوظ سرمایہ کاری کی طلب کے باعث سونا سال کے آغاز سے اب تک کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ رہا ہے۔
وال اسٹریٹ میں کاروبار ملا جلا رہا، تاہم امریکی اسٹاک فیوچرز میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ دوسری طرف، ییلڈز میں بحالی کے ساتھ یورپ اور برطانیہ کی ایکویٹیز دباؤ میں رہیں۔
کرپٹو کرنسیاں بھی مارکیٹ میں زیادہ لیکویڈیٹی اور BTCUSD اور ETHUSD ٹریڈرز کے لیے اضافی مواقع کی امید کے باعث اوپر کی جانب رفتار پکڑ رہی ہیں۔
اگرچہ ECB کی جانب سے شرح سود میں 0.50% اضافے کی توقع ہے اور اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں، لیکن شرح سود میں اچانک 25 bps اضافہ یا بالکل اضافہ نہ ہونا، بڑے بینکوں میں لیکویڈیٹی کی قلت کے دوران EURUSD کی قیمتوں کو شدید گرا سکتا ہے۔ EURUSD کے ٹریڈرز شرح سود میں کم اضافوں کی توقع کر رہے ہیں، اس لیے ECB کی صدر Christine Lagarde کی تقریر پر بھی نظر رکھنا اہم ہوگا، ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پالیسی میں تبدیلی کتنی قریب ہے۔
دوسری جانب، قریبی مدت میں مارکیٹ کی کارکردگی کا اندازہ لگانے اور مالی بحران پر قابو پانے کے لیے امریکی ثانوی درجے کے اعدادوشمار اور بانڈ مارکیٹ کی نقل و حرکت بھی اہم ہوگی۔
ٹریڈنگ میں قسمت آپ کا ساتھ دے!